Question
ایک مسئلے کے بارے میں فتویٰ درکار ہے۔
ایک صاحب یہاں یو کے (انگلینڈ) میں ایک غیر مسلم کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، اور کمپنی کے مالکان بھی غیر مسلم ہیں۔
مہینے کے اختتام پر جب انہیں تنخواہ ملی تو معلوم ہوا کہ جتنے گھنٹے انہوں نے حقیقت میں کام کیا تھا، تنخواہ اس سے کچھ زیادہ گھنٹوں کی ادا کر دی گئی، یعنی اضافی رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافی رقم ان کے لیے جائز ہے؟ کیا وہ اسے استعمال کر سکتے ہیں؟
یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں کمپنی کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اگلی تنخواہ سے یہ اضافی رقم کاٹ لے۔ لیکن اگر کمپنی کو اپنی غلطی کا علم نہ ہو، یا وہ یہ رقم واپس نہ لے، تو کیا ایسی صورت میں اس اضافی رقم کو اپنے پاس رکھنا اور استعمال کرنا شرعاً جائز ہوگا؟
واضح رہے کہ انہوں نے نہ کوئی دھوکا دیا، نہ چوری کی، نہ اضافی رقم کا مطالبہ کیا، بلکہ کمپنی نے اپنی طرف سے غلطی سے یہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی۔
جس طرح بعض اہلِ سنت علماء، خصوصاً یوکے وغیرہ جیسے غیر مسلم ممالک میں، سیونگ اکاؤنٹ کو جائز قرار دیتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے منافع کو مالِ غنیمت کے حکم میں شمار کرتے ہیں، تو کیا اسی اصول کے مطابق اگر کافروں سے کسی اور ذریعے سے کوئی رقم یا مال حاصل ہو تو کیا وہ بھی مالِ غنیمت کے حکم میں آئے گا اور جائز ہوگا
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کی رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
Answer
The wealth of a non-Muslim, which is obtained without deception and with their consent, is permissible to use; that wealth is lawful for a Muslim.
This principle is valid in itself. However, in the situation you described, the extra salary was received from the company by mistake. The company’s consent is not involved in it, meaning that whenever the company comes to know about it, it will demand the return of the amount.
Therefore, it is not permissible for you to use the extra salary. You should inform the company about this through an appropriate procedure and return that amount. If, even after that, the company gives you this amount, then its use will be permissible for you.
Answered by: Mubashir Attari(AskMufti Scholar)
Verified by: Mufti Sajid Attari
Translated answer
Date: 19th July 2026
